بھارت توپ و تفنگ سے کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو نہیں دبا سکتا ‘بیرسٹر سلطان

اسلام آباد( نمائندہ خصوصی) آزاد کشمیر کے سابق وزیر اعظم وپی ٹی آئی آزاد جموں و کشمیر کے صدر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کہا ہے کہ آج سے72 سال قبل اقوام متحدہ میں1949ء میں کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کے لئے قرارداد پاس کی گئی لیکن اتنا طویل عرصہ گزرنے کے کے باوجود بھی اقوام متحدہ کی کشمیر پر قراردادوں پر عملدرآمد ممکن نہیں ہو سکا۔لیکن آج دنیا بھر میں کشمیری آج یوم حق خود ارادیت اس تجدید عہد کے ساتھ منار ہے ہیں کہ کشمیر ی عوام کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق خود ارادیت کے لئے انکی جدوجہد جاروساری رہے گی۔ مقبوضہ کشمیر میں کشمیری عوام بھارتی بربریت و مظالم کا دلیری سے مقابلہ کر رہے ہیں۔گذشتہ سال5 اگست کو بھارت نے کشمیرپراقوام متحدہ کی قراردادوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کوختم کرنے کی مزموم کوشش کی اورآرٹیکل 35A اورآرٹیکل 370 کو ختم کیا۔لیکن بھارت یہ جان لے کہ وہ اپنے توپ و تفنگ سے کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو نہیں دبا سکتا اور کشمیری شہداء کی قربانیاں جلد رنگ لائیں گی اور انکا خون رائیگاں نہیں جائے گا اور انشا ء اللہ مقبوضہ کشمیر جلد بھارتی تسلط سے آزاد ہو کر رہے گا۔مسئلہ کشمیراقوام متحدہ میں پیش کیے جانے والے انتہائی شروع کے مسائل میں سے ایک ہے اگر مسئلہ کشمیرجوکہ اتنا پرانا حل طلب مسئلہ ہے یہ حل نہیں ہو سکا تو اقوام متحدہ میں لائے جانے والے دوسرے مسائل کا کیا ہو گا۔ مسئلہ کشمیر کا حل نہ ہونا اقوام متحدہ کی ساکھ پر بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے آج یہاں پی ٹی آئی آزاد جموں و کشمیر کے مرکزی سیکریٹیریٹ گلبرگ اسلام آباد میں یوم حق خود ارادیت کے حوالے سے منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے مزید کہا کہ ہم گذشتہ سال COVID-19 کی صورتحال کے باعث مسئلہ کشمیر پر زیادہ موثر انداز میں کام نہیں کرسکے تاہم دنیا میں کورونا کی صورتحال بہتر ہوتے ہی ہم کشمیری عوام کے حق خود اردیت دلوانے ، مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف اور مسئلہ کشمیرکے حل کے لئے عالمی سطح پر جارحانہ انداز میں بھرپور آواز بلند کریں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں